Woh bewafa thay

وہ بے وفا تھے جنھیں دل سے پیار کرتے رہے
:”رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے”

بھلا چکے تھے سبھی درد اپنے ہم لیکن
پرائے درد سے دل کو غبار کرتے رہے

ہمارے سچ پہ ہوا جھوٹ کا گماں ان کو
کہ جن کے جھوٹ ہے ہم اعتبار کرتے رہے

شجر بہار میں سوکھا تو پھر ہرا نہ ہوا
اداس پنچھی سبھی انتظار کرتے رہے

سنا تو تھا کہ بھروسا کرو نہ سائے پر
خطا یہ ہم سے ہوئ بار بار کرتے رہے

وہ گل جو ٹوٹ کے بکھرے تھے اپنی ڈالی سے
وہ ٹوٹ کے بھی فضا مشکبار کرتے رہے

حمیرا دوستی میں تو نبھا رہی تھی مگر
دغا وہ دے کے مجھے شرمسار کرتے رہے

حمیرا قریشی

Comments are closed.